امیر مقام: خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے قانونی تقاضے پورے ہیں

امیر مقام: خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے قانونی تقاضے پورے ہیں

Sep 28, 2026|ویب ڈیسک

پشاور( اباسین خبر)وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اقدامات کے باعث گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے ہیں، جبکہ اس آئینی راستے پر مشاورت جاری ہے اور کسی بھی وقت کوئی فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔پشاور پریس کلب میں صوبائی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کے صدر امیر مقام نے کہا کہ صوبے کے حالات سب کے سامنے ہیں، عوام طویل عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم صوبائی حکومت کی توجہ عوامی مسائل کے بجائے سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ ہونے کی صورت میں گورنر فیصل کریم کنڈی ہی اس انتظام کو لیڈ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصل کریم کنڈی نفیس آدمی ہیں، انہیں ہٹانے سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی اور وہ اچھا کام کر رہے ہیں، تاہم باقی کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔امیر مقام نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو لانگ مارچ کے بجائے جیل جانے کی تیاری کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ لانگ مارچ کے نام پر ٹھیکیداروں اور عوام سے اربوں روپے چندے کی صورت میں جمع کیے گئے، تاہم اس رقم کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کے لیے بھی تیاریاں مکمل نہیں تھیں اور اب 4 اکتوبر کی تاریخ دی گئی ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت سرکاری وسائل اور ٹیکسوں کی رقم جلسے جلوسوں پر خرچ کر رہی ہے، جبکہ عوام نے پی ٹی آئی کو سہولیات کی فراہمی کے لیے ووٹ دیا تھا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دینے والے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو غنڈہ گردی جیسے القابات سے پکارنا افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پورا صوبہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے لیکن صوبائی حکومت کی توجہ ایک سیاسی قیدی کی رہائی پر مرکوز ہے۔امیر مقام نے کہا کہ وفاق کسی ایک فرد کی رہائی کے معاملے پر مذاکرات نہیں کرے گا، تاہم دیگر معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق کسی فرد کی قسمت کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے افغانستان اور طالبان سے مذاکرات کی بات کرکے ریاست کے اندر ریاست بنانے کی کوشش کی گئی۔ امیر مقام نے صوبائی حکومت کی پولیس پالیسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پولیس ایکٹ کے ذریعے پولیس پر حکومتی کنٹرول بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے پاس وزیراعلیٰ کے منصب کے لیے کوئی ایسی شخصیت موجود نہیں جو اس عہدے کی اہل ہو، جبکہ موجودہ حکومت میں وزرائے اعلیٰ کی تبدیلی کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں بھی اسلام آباد میں احتجاج کیا گیا تھا، تاہم پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری کے بعد ان کی ضمانتیں کروا کر انہیں گھروں تک پہنچایا گیا۔امیر مقام نے ایک مرتبہ پھر الزام عائد کیا کہ لانگ مارچ اور پارٹی کارکنوں کے نام پر اربوں روپے چندے کی صورت میں جمع کیے جا رہے ہیں اور یہ رقم مبینہ طور پر ذاتی استعمال میں لائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو عوام کو جمع کرنے کی کوشش کی، لیکن مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے کے باعث اب 4 اکتوبر کی تاریخ دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ گورنر راج ایک آئینی آپشن ہے اور موجودہ صورتحال میں اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔