پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات آج سے شروع، 1.2 ارب ڈالر کی توقع

پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات آج سے شروع، 1.2 ارب ڈالر کی توقع

Sep 28, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) حکومت اور پاکستان کے دورے پر موجود عالمی مالیاتی فنڈ کے مشن کے درمیان 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے چوتھے جائزے اور لچکدار معاونت پروگرام کے تیسرے جائزے کے لیے باضابطہ مذاکرات آج شروع ہونے کا امکان ہے۔آئی ایم ایف مشن آئیوا پیٹرووا کی سربراہی میں پاکستان میں تقریباً دو ہفتے قیام کرے گا اور اکتوبر کے پہلے ہفتے تک دونوں جائزوں کا عمل مکمل کرنے کی کوشش کرے گا۔ جائزوں کی تکمیل کے بعد پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت ملنے کی توقع ہے۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے، جبکہ وزیر خزانہ کے ساتھ معاشی ٹیم بھی مذاکرات میں شریک ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات 30 جون تک کے معاشی اعداد و شمار کی بنیاد پر ہوں گے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے خودمختار دولت فنڈ اور گردشی قرضے میں کمی سے متعلق بریفنگ دی جائے گی، جبکہ آئی ایم ایف کو چینی کے شعبے کو ضابطوں سے آزاد نہ کرنے کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔مذاکرات میں آئی ایم ایف کو جاری کھاتے کے خسارے، بنیادی بجٹ سرپلس، زرمبادلہ کے ذخائر اور شرح تبادلہ کی صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف اور ایف بی آر کے درمیان ٹیکس نیٹ وسیع کرنے اور اصلاحات سے متعلق امور پر بھی بات ہوگی۔وزارت توانائی کی جانب سے گردشی قرضے اور اصلاحات پر بریفنگ دی جائے گی، جبکہ نیب اور ایف آئی اے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے اقدامات سے آگاہ کریں گے۔آئی ایم ایف پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں سے بھی مذاکرات کرے گا، جن میں ٹیکس اور غیر ٹیکس آمدن بڑھانے کے اقدامات سمیت زرعی ٹیکس کی وصولی پر تبادلہ خیال ہوگا۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق معاشی ٹیم کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات میں پٹرولیم لیوی پر خصوصی نشستیں ہوں گی، جبکہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں نئی قسط کے حصول کے لیے پالیسی سطح کے مذاکرات کیے جائیں گے۔آئی ایم ایف کو وزیراعظم کی پٹرول سبسڈی اسکیم پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق جون 2026 تک پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا ہدف 1468 ارب روپے تھا، جبکہ اس عرصے میں 1567 ارب روپے جمع کیے گئے۔ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے کے وفد کو بتایا جائے گا کہ پاکستان نے بیشتر معاشی اہداف حاصل کرلیے ہیں۔