واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو واضح کر دیا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران پر جوابی حملہ کیا تو امریکا اس کارروائی میں شامل نہیں ہوگا۔اتوار کی رات ایران نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملوں کے جواب میں اسرائیل پر میزائل داغے۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے میزائل فائر کیے گئے ہیں، تاہم فضائی دفاعی نظام نے زیادہ تر حملوں کو ناکام بنا دیا۔ایرانی حملوں کے بعد امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں نیتن یاہو نے ایران پر ممکنہ جوابی کارروائی کے ارادے سے صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا۔اس گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایسی کسی کارروائی کی صورت میں امریکا اس میں حصہ نہیں لے گا۔دوسری جانب برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو کے پاس ایران کے ساتھ معاہدہ قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے حملوں کے باوجود امریکا ایران مذاکرات جاری رکھنے کے حق میں ہے۔ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ اگر معاہدہ ناکام ہوتا ہے تو ایران کے خلاف کمانڈو کارروائی پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ایران پر اسرائیلی جوابی حملے میں امریکا شریک نہیں ہوگا:ٹرمپ کا واضح مؤقف
2 گھنٹے قبل