واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا بھارت سمیت اپنے اہم تجارتی شراکت دار ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر کم از کم دس فیصد اضافی محصول عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت جبری مشقت سے تیار کردہ اشیاء سے متعلق تحقیقات کے بعد سامنے آئی ہے۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت، چین، جاپان، جنوبی کوریا، برازیل اور سوئٹزر لینڈ سے آنے والی مصنوعات پر بارہ اعشاریہ پانچ فیصد اضافی محصول لگانے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ کینیڈا، میکسیکو، یورپی اتحاد، تائیوان، برطانیہ اور دیگر ممالک سے درآمدات پر دس فیصد اضافی محصول نافذ کیا جا سکتا ہے۔یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی تجارتی نمائندے نئی دہلی میں بھارتی حکام کے ساتھ دو طرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات میں مصروف ہیں۔امریکی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بھارت ان چون ممالک میں شامل ہے جہاں جبری مشقت سے تیار کردہ اشیاء کی درآمد پر یا تو پابندی موجود نہیں یا اس پر مؤثر انداز میں عمل درآمد نہیں ہو رہا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے ایسی مصنوعات کی درآمد روکنے اور متعلقہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد کے حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی۔امریکی تجارتی نمائندے نے کہا کہ اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار اشیاء کی درآمد نہ روکنا ناقابل قبول ہے، کیونکہ اس سے امریکی کارکنوں کو عالمی منڈی میں غیر منصفانہ مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بھارتی تجارتی ماہرین کے مطابق اس اقدام کو امریکا کی وسیع تر دباؤ کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور بھارت کو چاہیے کہ اس معاملے کو دو طرفہ تجارتی مذاکرات سے الگ رکھے۔
امریکا کا بڑے تجارتی شراکت داروں پر اضافی محصولات عائد کرنے پر غور
7 گھنٹے قبل