ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے میں امریکا حد سے آگے نکل گیا: ٹرمپ

ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے میں امریکا حد سے آگے نکل گیا: ٹرمپ

Oct 13, 2026|ویب ڈیسک

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے معاملے میں امریکا شاید حد سے زیادہ آگے بڑھ گیا ہے۔ٹرمپ کے مطابق واشنگٹن کو ایسے ایرانی حکام کی شناخت میں مشکلات کا سامنا ہے جن سے جنگ کے خاتمے یا مذاکرات کے لیے رابطہ کیا جا سکے۔امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور سفارتی رابطوں کے ذریعے ممکنہ پیش رفت کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے بعد امریکا کو مذاکرات کے لیے مناسب ایرانی حکام تلاش کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اطلاعات کو مسترد کیا ہے کہ روس اور چین ایران کو بڑے پیمانے پر مدد فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتہا پسند بائیں بازو کے احمق دعویٰ کر رہے ہیں کہ چین اور روس ایران کی مدد کر رہے ہیں، تاہم انہیں اس بات کا بالکل یقین نہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر روس اور چین ایران کی مدد کر بھی رہے ہیں تو یہ تعاون انتہائی محدود سطح پر ہو سکتا ہے، تاہم انہیں یقین نہیں کہ دونوں ممالک ایسا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماسکو اور بیجنگ کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ ہے، اس لیے انہیں یقین نہیں کہ وہ تہران کی مدد کر رہے ہیں۔ٹرمپ کے مطابق اگر ایران کو کسی قسم کی مدد فراہم کی جا رہی ہوتی تو واشنگٹن کو اس کا علم ہو جاتا، بلکہ بہت جلد پتا چل جاتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر روس اور چین نے تہران کی مدد کی تو انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔واضح رہے کہ امریکی صدر نے جولائی میں بھی کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ چین اور روس ایران کے ساتھ جاری جنگ میں تہران کی مدد نہیں کریں گے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر دونوں ممالک نے تنازع میں مداخلت کی تو یہ ان کے لیے بہت برا ثابت ہوگا۔