ایران جنگ ریپبلکنز کی انتخابی شکست کی بڑی وجہ بنی، ٹرمپ کا اعتراف

ایران جنگ ریپبلکنز کی انتخابی شکست کی بڑی وجہ بنی، ٹرمپ کا اعتراف

Nov 5, 2026|ویب ڈیسک

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کی اہم وجوہات میں شامل تھی، جنگ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے بھی انتخابی نتائج پر اثر ڈالا۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ نائب صدر جے ڈی وینس کے اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایران جنگ کے باعث ریپبلکن پارٹی کو انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا؟ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ بات بڑی حد تک درست ہے، کیونکہ جنگ کی وجہ سے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔تاہم امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر انہیں دوبارہ فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے تو وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم پھر بھی دیں گے، کیونکہ ان کے بقول ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حامی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو عہدے سے ہٹانے کے امکان کو بھی مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع اپنی ذمہ داریاں اچھے طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔اس سے قبل نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کے ساتھ جنگ کو ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کی وجہ قرار دیا تھا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ہماری شکست کی وجہ جنگ ہے اور صدر ٹرمپ بھی گزشتہ رات اس حقیقت کا اظہار کرچکے ہیں۔جے ڈی وینس کے بیان کو 2028ء کے صدارتی انتخابات سے قبل خود کو ایران جنگ کے غیر مقبول فیصلے سے الگ کرنے کی سیاسی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔دوسری جانب وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے باوجود وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کی صدارت برقرار رہنے کا پیغام دیا۔ اس سلسلے میں ایکس پر جاری تصویر میں ٹرمپ کو اوول آفس میں صدارتی میز کے پیچھے غصے کی حالت میں دکھایا گیا، جس پر تحریر تھا کہ عوام کی اطلاع کے لیے، ٹرمپ اب بھی آپ کے صدر ہیں۔واضح رہے کہ وسط مدتی انتخابات میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرلی، جس سے صدر ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کو بڑا سیاسی دھچکا پہنچا ہے۔کانگریس کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے پاس جانے سے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے قانون سازی کے معاملات مشکل ہوسکتے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس کو حکومتی پالیسیوں کی تحقیقات کرنے اور اہم سرکاری تقرریوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے مزید اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔