اسلام آباد( کامرس ڈیسک)وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد ٹیکسوں میں کمی اور گاڑیوں کی عمر کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم بچوں کی تعلیمی ضروریات سے متعلق اشیا پر سیلز ٹیکس ختم کرنے کی منظوری بین الاقوامی مالیاتی ادارے سے حاصل نہیں ہو سکی۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ بین الاقوامی مالیاتی معاہدے کے تحت آئندہ جولائی سے پانچ سال تک پرانی گاڑیوں کی درآمد پر عائد پابندی ختم کر دی جائے گی، بشرطیکہ گاڑیاں ماحولیاتی معیار پر پوری اتریں۔ انہوں نے کہا کہ اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی بھی چالیس فیصد سے کم کر کے تیس فیصد کر دی جائے گی۔ان کے مطابق ان اقدامات کا مقصد درآمدی نظام میں مرحلہ وار نرمی لانا اور غیر ملکی فروخت کنندگان کو مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔دوسری جانب سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ٹیکس پالیسی آفس ڈاکٹر نجیب میمن نے بتایا کہ تعلیمی شعبے کے لیے ٹیکس چھوٹ کی تجاویز کو بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے منظور نہیں کیا۔ ان کے مطابق پنسل، کاپیاں، شارپنرز اور دیگر اسٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی مسترد کر دی گئی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ بجٹ میں ان اشیا پر اٹھارہ فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔ادھر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مشروبات کی صنعت اور برآمدکنندگان کے لیے مزید ٹیکس ریلیف دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پہلے ہی مختلف شعبوں کو ایڈوانس انکم ٹیکس میں کمی، سپر ٹیکس کے خاتمے اور شرح سود میں کمی جیسے اقدامات کے ذریعے ریلیف فراہم کر چکی ہے۔
استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس میں نرمی، تعلیمی اشیا پر ٹیکس چھوٹ منظور نہ ہو سکی
واپس خبروں پر
Category:
تجارت