خواتین کو نشانہ بنانا بلوچ روایات اور انسانی اقدار کی کھلی پامالی ہے: اراکین پارلیمنٹر ین
کوئٹہ ( اباسین خبر) پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والی خواتین صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی نے نوشکی کے علاقے کلی مینگل آباد میں ماں بیٹی کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو گھر میں گھس کر نشانہ بنانا بلوچ روایات اور انسانی اقدار کی کھلی پامالی ہے۔پریس کانفرنس میں ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی غزالہ گولہ، صوبائی وزیر راحیلہ حمید خان درانی، صوبائی مشیر کھیل مینا مجید بلوچ اور رکن صوبائی اسمبلی ہادیہ نواز بہرانی نے کہا کہ دہشتگردوں کے اس بزدلانہ حملے نے ان کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نوشکی میں سرکاری ملازمہ حنیفہ بی بی اور ان کی بیٹی حفصہ بی بی کو گھر میں داخل ہوکر قتل کیا گیا، جو سیلاب سے متاثرہ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور پاک فوج کے تعاون سے ان کا گھر بحال کیا گیا تھا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے والے کسی صورت بلوچ قوم کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے۔خواتین رہنماؤں نے کہا کہ دہشتگرد صرف سیکیورٹی فورسز ہی نہیں بلکہ بے گناہ شہریوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، اس لیے عوام کو بھی دہشتگرد عناصر کی شناخت اور ان کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماں بیٹی کا قتل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن دشمن عناصر کے خلاف تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہوکر کردار ادا کرنا ہوگا اور واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی کو کسی بھی صورت حقوق کی جنگ قرار نہیں دیا جاسکتا، گھروں میں گھس کر خواتین کو قتل کرنا کھلی دہشتگردی ہے۔