افغانستان کی معدنی دولت پر طالبان کا قبضہ، اربوں ڈالر کے مفادات

افغانستان کی معدنی دولت پر طالبان کا قبضہ، اربوں ڈالر کے مفادات

Aug 15, 2026|ویب ڈیسک

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی تھنک ٹینک جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن نے افغانستان میں بدعنوانی، اقرباپروری اور معدنی وسائل پر اجارہ داری کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت افغانستان کی ایک ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کی معدنی دولت کو قومی ترقی کے بجائے اشرافیہ کی سرپرستی اور سیاسی گرفت مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ جون میں طالبان نے بدخشاں میں ایک ہزار فوجی اہلکار تعینات کیے تاکہ قیمتی معدنی کانوں پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیا جاسکے۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق افغانستان میں ایک ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کے معدنی وسائل موجود ہیں جبکہ ملک کے 34 صوبوں میں 1,400 سے زائد ذخائر کی نشاندہی ہوچکی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان نے 150 سے زائد کمپنیوں کو 205 کان کنی کے معاہدے دیے اور تقریباً 6.5 ارب ڈالر کے منصوبوں کا اعلان کیا، تاہم ان معاہدوں اور منصوبوں کی تفصیلات اب تک خفیہ رکھی گئی ہیں۔جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کے مطابق کان کنی کے لائسنس اور معاہدوں میں شفافیت کا فقدان ہے جبکہ طالبان سے منسلک نیٹ ورکس اور مبینہ منرل مافیا معدنی آمدنی پر قابض ہیں۔ طالبان کان کنی کے علاقوں میں جبری قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جبکہ بدخشاں اور تخار میں بے دخلی اور خونریز جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت میں کان کنی کے منافع کے لیے کمزور طبقات کا استحصال بھی جاری ہے اور کم سن بچے حفاظتی سہولیات کے بغیر خطرناک کوئلہ کانوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری مزاحمتی تحریکوں اور طالبان پر حملوں کی ایک بڑی وجہ معدنی وسائل پر مبینہ جبری قبضہ اور مقامی آبادی کے حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ کان کنی کے معاہدوں کی تفصیلات خفیہ رکھنے سے شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ معدنی آمدنی دہشتگرد نیٹ ورکس، دہشتگردوں کی مالی معاونت اور منشیات کی معیشت تک منتقل ہوسکتی ہے۔