طالبان دور میں صحافت پر قدغن، صحافیوں کو سنگین مشکلات کا سامنا

طالبان دور میں صحافت پر قدغن، صحافیوں کو سنگین مشکلات کا سامنا

Aug 15, 2026|ویب ڈیسک

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک)طالبان حکومت کے پانچ سالہ دور میں صحافیوں کو گرفتاریوں، دھمکیوں، ہراسانی، تشدد اور سینسر شپ سمیت سنگین مسائل کا سامنا رہا ہے۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق طالبان کے دور میں آزاد میڈیا پر پابندیاں عائد کی گئیں، صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ سیکڑوں میڈیا ادارے بند ہوگئے۔عالمی جریدے ماڈرن ڈپلومیسی کے مطابق افغان طالبان حکومت نے تقریباً 80 فیصد خواتین صحافیوں کو جبری طور پر ملازمتیں چھوڑنے پر مجبور کیا۔ تجزیہ کار فرشتہ عباسی کے مطابق طالبان حکومت نے تنقیدی آوازوں کو دبانے کے لیے صحافیوں کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنے پر مجبور کیا۔رپورٹ کے مطابق 2024 میں اقوام متحدہ کے افغان مشن نے 336 صحافیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور 256 بلاجواز گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔افغان نشریاتی ادارے کے سربراہ سعد محسینی کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کی سخت پابندیوں کے باوجود افغان عوام کے مستقبل اور جبر کے خلاف آواز بلند کرنے میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔ماہرین کے مطابق آزاد صحافت اور عالمی میڈیا پر پابندیوں کے باعث سوشل میڈیا پر جعلی افغان اکاؤنٹس کے ذریعے منظم پروپیگنڈا بھی جاری ہے۔ ان کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد آزاد صحافت، خصوصاً خواتین صحافیوں پر عائد پابندیوں نے حکومت کی پالیسیوں پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔رپورٹ کے مطابق آزاد صحافت پر پانچ سال سے جاری قدغنوں اور مبینہ پروپیگنڈے کا مقصد طالبان حکومت کی سخت پالیسیوں اور حالات کی اصل تصویر کو منظرعام پر آنے سے روکنا ہے۔