نیو یارک( شو بز ڈیسک)معروف امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ نے اپنی آواز اور شناخت کو مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گلوکارہ نے اس قدم کا فیصلہ اس پس منظر میں کیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جعلی مواد کی تیاری میں تیزی آ گئی ہے، جو فنکاروں کے حقوق کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق 36 سالہ پاپ گلوکارہ نے اپنی آواز کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی کمپنی نے 24 اپریل کو امریکی ادارہ برائے پیٹنٹ و تجارتی علامات میں تین درخواستیں جمع کرائیں، جن میں مخصوص جملوں کو صوتی شناخت کے طور پر رجسٹر کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ایک اور درخواست میں ان کی اسٹیج پر موجودگی کی بصری شناخت کو بھی محفوظ بنانے کی استدعا کی گئی ہے، جس میں انہیں گلابی گٹار کے ساتھ رنگین لباس اور چمکدار جوتوں میں پیش کیا گیا ہے۔ تاہم ان درخواستوں کی مکمل تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔ٹیلر سوئفٹ کا یہ اقدام انہیں ان معروف ہالی ووڈ شخصیات کی صف میں لے آیا ہے جو مصنوعی ذہانت کے ممکنہ غلط استعمال سے بچنے کے لیے قانونی تحفظ حاصل کر رہی ہیں۔ اسی تناظر میں آسکر انعام یافتہ اداکار میتھیو میک کوناہی نے بھی اپنی آواز کے حقوق کے تحفظ کے لیے درخواست جمع کرا رکھی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ نے تفریحی صنعت اور تخلیقی شعبوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جس کے باعث فنکار اب اپنے حقوق کے دفاع کے لیے قانونی راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے بڑھتے خطرات، ٹیلر سوئفٹ نے قانونی محاذ کھول دیا
4 گھنٹے قبل