پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اٹک سے آگے نہیں جاسکتا،گورنر کے پی
پشاور( اباسین خبر)گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس لانگ مارچ کے لیے مطلوبہ افراد ہی نہیں، اس لیے یہ اٹک سے آگے نہیں جاسکتا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی 20 لاکھ افراد کے اجتماع کا دعویٰ کرتی ہے لیکن اس کے پاس لوگ موجود نہیں، پارٹی ایک قدم آگے بڑھ کر دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ صدر اور وزیراعظم جب بھی گورنر راج کا فیصلہ کریں گے، صوبے میں اس کا نفاذ کردیا جائے گا۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ جو لوگ آئین اور قانون کو نہیں مانتے، ان سے مذاکرات کی بات کی جاتی ہے، جبکہ پاکستان کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے آنے پر بھی وہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہوجاتے ہیں۔انہوں نے تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کے بجائے چار فرنچائزز پر مشتمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کا برا حال کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے بجائے اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے میں مصروف ہے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا اس وقت دہشت گردی کی زد میں ہے اور ایسے حالات میں اسلام آباد پر چڑھائی کے بجائے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی صورت حال، پی ٹی آئی سے مذاکرات اور لانگ مارچ کے معاملات پر اکثر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔گورنر نے لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے یا جنوبی علاقوں سے کوئی شخص مبینہ سازش کے تحت اسلام آباد داخل ہونے کی کوشش کرے تو پی ٹی آئی کے پاس اسے روکنے کا کیا نظام موجود ہے؟انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت پر دہشت گردی کے واقعات پر خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ وفاق کی جانب سے عسکریت پسندی کے خلاف تعاون مانگنے پر صوبائی حکومت فوج واپس بلانے اور افغانستان سے مذاکرات کی بات کرتی ہے۔فیصل کریم کنڈی نے عمران خان پر ماضی میں عسکریت پسندوں کو خیبرپختونخوا میں آباد کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔گورنر نے کہا کہ گورنر راج آخری آپشن ہوتا ہے، کوئی بھی اسے نافذ کرنا نہیں چاہتا اور حکومت کی خواہش ہے کہ معاملات معمول کے مطابق چلتے رہیں۔ تاہم صدر اور وزیراعظم نے فیصلہ کیا تو گورنر راج نافذ کردیا جائے گا۔