پاکستانی اور سعودی سرمایہ کاروں کی ایک دوسرے کو رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی دعوت
اسلام آباد( کامرس ڈیسک)لیک سٹی گالف اینڈ کنٹری کلب میں سعودی پاک رئیل اسٹیٹ ایکسپو کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستانی اور سعودی سرمایہ کاروں نے دونوں ممالک میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔ایکسپو میں شریک پاکستانی سرمایہ کاروں نے سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی، جبکہ خود بھی سعودی عرب میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا۔ایکسپو کی افتتاحی تقریب میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان، چیئرمین سعودی پاک بزنس کونسل شہزادہ منصور بن محمد السعود، سابق نگران وفاقی وزیر ڈاکٹر گوہر اعجاز اور معروف صنعت کار عارف حبیب سمیت اہم کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خانگورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر گوہر اعجاز کی کوشش ہے کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری آئے، جبکہ رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں کاروبار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ (سی بی ڈی) اور راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کی پیشکش دیکھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے جنت میں آگیا ہوں۔ ان کے مطابق آج کی ایکسپو کاروبار کے نئے راستے کھولے گی۔گورنر پنجاب نے پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ دونوں ممالک کا رشتہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ تعاون اور دوطرفہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔سابق نگران وفاقی وزیر ڈاکٹر گوہر اعجازڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا کہ اس ایکسپو کا بنیادی مقصد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کاروباری تعلقات کو فروغ دینا ہے، جبکہ رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں 25 کروڑ آبادی کے باعث پیدا ہونے والے کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی گئی ہے۔ ملک میں بڑی آبادی کو رہائش کی ضرورت ہے اور کاروباری سرگرمیاں بہت سے مسائل کا حل فراہم کرسکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسلامی تعلیمات میں بھی تجارت اور کاروبار کو اہمیت حاصل ہے، جبکہ سعودی عرب پاکستانی شہریوں کو روزگار فراہم کرنے والے نمایاں ممالک میں شامل ہے۔ڈاکٹر گوہر اعجاز نے بتایا کہ پاک سعودی بزنس کونسل کے تحت دونوں ممالک میں سرمایہ کاری کے لیے پانچ ارب کا فنڈ مختص کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایکسپو پاکستان کے تعمیراتی شعبے سے وابستہ ماہرین کو سیکھنے اور نئے مواقع تلاش کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔معروف صنعت کار عارف حبیبمعروف صنعت کار عارف حبیب نے کہا کہ تقریباً 20 لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جبکہ ہر سال 20 لاکھ سے زائد افراد عمرے کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ افراد چار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔عارف حبیب نے کہا کہ پاکستانیوں کا خواب ہوتا ہے کہ مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں ان کا اپنا گھر ہو، اس لیے سعودی حکومت کو پاکستانی شہریوں کی اس خواہش سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ صورت حال میں پاکستانیوں نے دبئی میں سرمایہ کاری روک دی ہے، جو سعودی عرب کے لیے ایک مفید موقع ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر حکومت سے بھی بات چیت جاری ہے اور اس اقدام سے پاکستان کو نقصان پہنچنے کے بجائے سعودی عرب سے مزید سرمایہ کاری آنے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔عارف حبیب نے دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ انہیں کس ملک میں سرمایہ کاری سے زیادہ فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی سرمایہ کاری کاروبار کے مستقبل میں اہم کردار ادا کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سعودی حکومت کو اپنے شہریوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور یہاں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ پاکستان کے انسانی وسائل اور سعودی عرب کے سرمائے کو یکجا کرکے بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔عارف حبیب کے مطابق سعودی عرب کو لندن، ملائیشیا اور دبئی کی طرح پاکستان میں بھی سرمایہ کاری کرنی چاہیے، کیونکہ دونوں ممالک باہمی تعاون کے ذریعے ترقی کرسکتے ہیں۔شہزادہ منصور بن محمد السعودچیئرمین سعودی پاک بزنس کونسل شہزادہ منصور بن محمد السعود نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں ملنے والی مہمان نوازی سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق سعودی پاک بزنس کونسل کا مقصد صرف کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا نہیں بلکہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ کونسل کے تحت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔شہزادہ منصور بن محمد السعود کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی کاروباری تعلقات قائم کیے جائیں گے، جن کے ذریعے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی سرمایہ کاروں کو سعودی عرب میں کاروباری کمپنیوں اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ان کے مطابق مقصد صرف بات چیت تک محدود رہنا نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنا ہے، تاکہ دونوں ممالک کی خوشحالی کے لیے مؤثر کوششیں کی جاسکیں۔ اس ایکسپو کے ذریعے پاکستانی کمپنیوں کو سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کا موقع بھی ملے گا۔