پی ٹی آئی میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، علی امین کی سلمان اکرم راجہ پر تنقید، مبینہ آڈیو وائرل

پی ٹی آئی میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، علی امین کی سلمان اکرم راجہ پر تنقید، مبینہ آڈیو وائرل

Oct 21, 2026|ویب ڈیسک

پشاور( اباسین خبر) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہوگئے، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے منسوب ایک مبینہ آڈیو سامنے آگئی، جس میں انہیں پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ پر تنقید کرتے اور ان سے ایک ٹوئٹ واپس لینے کے ساتھ معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔مبینہ آڈیو میں علی امین گنڈاپور پارٹی کی موجودہ صورت حال، قیادت کے کردار اور فیصلوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے سلمان اکرم راجہ سے وضاحت طلب کرتے ہیں کہ ان کی ٹوئٹ کا مقصد کیا تھا اور اس کے ذریعے وہ کیا ثابت کرنا چاہتے تھے۔پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شرکت پر زورعلی امین گنڈاپور سے منسوب گفتگو میں سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر گوہر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر انہیں بار بار پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جارہی ہے تو انہیں اجلاس میں شریک ہونا چاہیے۔مبینہ آڈیو میں پارٹی کے موجودہ حالات پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ فیصلے کرنے والے رہنماؤں کو اپنی حکمت عملی اور اقدامات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ گفتگو میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ پارٹی بانی عمران خان نے بعض رہنماؤں کو اختیارات دیے تھے، تاہم وہ ان اختیارات کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے میں ناکام رہے۔سلمان اکرم راجہ کی ٹوئٹ پر اعتراضمبینہ آڈیو میں علی امین گنڈاپور نے سلمان اکرم راجہ کی ٹوئٹ کے مقصد پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پارٹی کے اندر ابہام پیدا ہورہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واضح کیا جائے کہ یہ ٹوئٹ کس کے کہنے پر کی گئی اور اس کے پیچھے کیا مقصد تھا۔علی امین گنڈاپور سے منسوب گفتگو میں سلمان اکرم راجہ سے ٹوئٹ واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر اپنے تحفظات ریکارڈ پر لارہے ہیں۔پارٹی قیادت اور فیصلہ سازوں پر تنقیدمبینہ آڈیو میں سابق وزیراعلیٰ نے پارٹی کی سیاسی صورت حال اور خیبرپختونخوا میں حکومتی معاملات پر بھی تنقید کی۔ ان سے منسوب گفتگو کے مطابق، بعض فیصلہ ساز رہنماؤں کی حکمت عملی اور فیصلوں نے موجودہ مشکلات کو جنم دیا۔انہوں نے سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں عہدہ ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے رہنماؤں پر الزامات عائد کیے جائیں۔مبینہ آڈیو میں علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کسی کی ذاتی جماعت نہیں اور عمران خان کے احکامات کی پیروی سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے نظریے کے ساتھ کون کتنے عرصے سے کھڑا ہے اور کس نے کتنی قربانیاں دی ہیں، اس سے قوم آگاہ ہے۔انہوں نے مبینہ گفتگو میں پارٹی رہنماؤں پر الزامات عائد کرنے کے معاملے پر بھی اعتراض کیا اور سلمان اکرم راجہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے مؤقف اور الزامات کی وضاحت کریں۔علی امین گنڈاپور سے منسوب بیان میں مزید کہا گیا کہ کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ دوسرے رہنماؤں کی نظریاتی وابستگی اور قربانیوں پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے سلمان اکرم راجہ کے طرزِ گفتگو پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔مبینہ آڈیو سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی کی اندرونی صورت حال اور قیادت کے درمیان اختلافات سے متعلق بحث ایک بار پھر اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ تاہم آڈیو کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ رہنماؤں کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔