تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا مطلب ہرگز ہتھیار ڈالنا نہیں بلکہ ایران اپنے قومی مفادات اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے مضبوط مؤقف کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گا۔ایرانی صدر نے یہ بیان جنگ کے باعث ہونے والے نقصانات کی بحالی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا بنیادی مقصد اپنے عوام کے حقوق کا حصول اور قومی مفادات کا وقار کے ساتھ دفاع کرنا ہے۔مسعود پزشکیان کے مطابق ایران اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے گا اور کسی بھی مذاکراتی عمل میں قومی خودمختاری اور عوامی مفادات کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں مذاکرات کو کمزوری یا پسپائی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے جنگ کے بعد بحالی کے عمل پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کر رہی ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور وسیع مذاکرات سے متعلق عالمی سطح پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ایرانی مفادات، پابندیوں کے خاتمے اور علاقائی استحکام کو یقینی بنانا ضروری ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان داخلی اعتماد کو مضبوط کرنے اور عالمی برادری کو ایران کا واضح مؤقف پہنچانے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔
مذاکرات ہتھیار ڈالنے کے مترادف نہیں، ایران اپنے قومی مفادات کا دفاع کرے گا: صدر مسعود پزشکیان
2 گھنٹے قبل