ایران میں محدود انٹرنیٹ سروس نافذ، صرف مخصوص افراد کو رسائی، عوامی سطح پر شدید ردعمل

4 گھنٹے قبل
ایران میں محدود انٹرنیٹ سروس نافذ، صرف مخصوص افراد کو رسائی، عوامی سطح پر شدید ردعمل

تہران( مانیٹر نگ ڈیسک) ایران کی حکومت نے جنگی حالات کے دوران محدود انٹرنیٹ رسائی کو کچھ مخصوص افراد اور اداروں تک وسعت دینا شروع کر دی ہے، تاہم ملک کی بڑی آبادی اب بھی انٹرنیٹ سہولت سے محروم ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو تہران میں حملوں کے بعد حکومت نے تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش نافذ کر دی تھی، جس کے نتیجے میں انٹرنیٹ استعمال کی شرح دو فیصد تک گر گئی۔ اس بندش سے معیشت کو بھاری مالی نقصان پہنچا جبکہ عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔حکومت کی جانب سے اب ایک محدود سروس متعارف کرائی گئی ہے جسے انٹرنیٹ پرو کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت صرف چند منتخب ویب سائٹس اور ایپس تک رسائی دی جا رہی ہے۔ یہ سہولت تاجروں، اساتذہ، ڈاکٹروں اور محققین جیسے مخصوص افراد کو دی جا رہی ہے، جن کے لیے مکمل شناخت اور دستاویزات کی شرط لازمی ہے۔اس کے علاوہ ایک خصوصی سم سروس بھی موجود ہے جو نسبتاً بہتر انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے، تاہم یہ سہولت صرف حکومتی شخصیات اور ان سے منسلک افراد تک محدود ہے۔عرب میڈیا کے مطابق اس اقدام کو عوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بنیادی حق ہے اور اسے مخصوص طبقے تک محدود کرنا ناانصافی ہے، جبکہ متعدد افراد نے روزگار اور پیشہ ورانہ امور میں مشکلات کی شکایات بھی کی ہیں۔دوسری جانب ایرانی حکومت انٹرنیٹ پر کنٹرول سخت کرنے کے لیے نئے نظام متعارف کرا رہی ہے، جبکہ صارفین مختلف طریقوں سے پابندیوں کو عبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم حکام کی جانب سے ان کوششوں کو بار بار ناکام بنایا جا رہا ہے۔