ایران کے حملوں سے مشرقِ وسطیٰ میں 26 امریکی فوجی اڈوں کو نقصان، اے پی کا دعویٰ

ایران کے حملوں سے مشرقِ وسطیٰ میں 26 امریکی فوجی اڈوں کو نقصان، اے پی کا دعویٰ

Nov 2, 2026|ویب ڈیسک

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے سیٹلائٹ تصاویر اور مختلف ذرائع کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔اے پی کے تجزیے کے مطابق جنگ کے دوران ایران نے ابتدا میں امریکی فضائی دفاعی اور ریڈار نظاموں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد فوجی طیاروں، ہینگرز اور دیگر عمارتوں پر حملے کیے گئے۔خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اگست تک ایران نے 115 سے زائد ڈرون اور میزائل حملے کیے، جن کے نتیجے میں خطے کے 26 فوجی اڈوں اور دیگر مقامات پر امریکی تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئیں۔ اے پی نے مختلف سیٹلائٹ کمپنیوں کی تصاویر کا جائزہ لینے کے علاوہ خطے کے 4 حکام سے بھی گفتگو کی، جو حملوں کے نقصانات سے واقف تھے۔رپورٹ کے مطابق ایران نے سب سے زیادہ حملے کویت میں قائم امریکی فوجی تنصیبات پر کیے۔ علی السالم ایئر بیس کو کم از کم 30 مرتبہ نشانہ بنایا گیا، جس سے کم از کم 15 طیاروں کے ہینگرز، متعدد گوداموں اور رہائشی علاقے کے قریب 10 عمارتوں کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئیں۔اے پی کے مطابق کویت کے کیمپ بوہرنگ کو بھی شدید نقصان پہنچا، جہاں بیشتر طیاروں کے ہینگرز ناقابلِ استعمال ہو گئے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یکم مارچ کو کویت کے پورٹ شعیبہ میں ڈرون حملے کے نتیجے میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ اے پی کے مطابق یہ جنگ کے دوران امریکی فوجیوں پر ہونے والا سب سے ہلاکت خیز معلوم حملہ تھا۔