تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ امن منصوبے پر ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جبکہ ایرانی ذرائع اس تاخیر کی بنیادی وجہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان کو قرار دے رہے ہیں۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکا نے ایک فریم ورک معاہدہ تجویز کیا ہے جس کا مقصد جاری کشیدگی میں کمی لانا اور آبنائے ہرمز کی بندش جیسے اہم مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے۔رپورٹس کے مطابق تہران میں اس مجوزہ معاہدے کے حتمی مسودے پر مشاورت جاری ہے اور ایرانی قیادت تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں امریکا کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزی اور مذاکراتی عمل کے دوران پیش آنے والے واقعات کے باعث اعتماد کی فضا متاثر ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ایران کسی بھی نئے معاہدے سے قبل واضح اور قابلِ عمل ضمانتیں چاہتا ہے۔ذرائع کے مطابق ایران اس معاملے کو انتہائی اہمیت دے رہا ہے اور ایسا معاہدہ چاہتا ہے جس کے عملی فوائد اور نتائج واضح طور پر سامنے آئیں۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا سکتا ہے۔امریکی صدر کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی، جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔