ایران جنگ 33 دن مکمل: خطے میں کشیدگی بر قرار

3 گھنٹے قبل
ایران جنگ 33 دن مکمل: خطے میں کشیدگی بر قرار

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے حملوں کو 33 دن مکمل ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں خطے میں جنگ، سفارتی کشیدگی اور انسانی بحران شدت اختیار کر چکے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران جنگ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے اور اس کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں۔ تاہم ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ انہیں امریکا کے ساتھ کسی بھی مذاکرات پر اعتماد نہیں، اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ایران میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں، جن میں صنعتی اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بندرعباس، اصفہان، شیران، اہوز، کھارگ اور کرمان شاہ سمیت کئی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ تہران میں ایک دوا ساز ادارے کے تحقیقی شعبے اور آبنائے ہرمز کے جزیرہ قشم پر ایک ڈی سیلینیشن پلانٹ بھی حملوں کے بعد بند ہو گیا۔عالمی سطح پر چین اور پاکستان نے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے پانچ نکاتی منصوبہ پیش کیا، جبکہ نیٹو اتحادی ممالک نے امریکا کی فوجی کارروائیوں پر پابندیاں لگاتے ہوئے اپنی فضائی حدود اور اڈوں تک رسائی محدود کر دی ہے۔خلیجی ممالک میں بھی کشیدگی برقرار ہے، کویت کے ہوائی اڈے ڈرون حملوں کا نشانہ بنے، بحرین میں شہری محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے، سعودی عرب نے متعدد ڈرون حملے ناکام بنائے، اور قطر کے قریب آئل ٹینکر کو نقصان پہنچا۔لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان میں گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے اور بے گھر افراد کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ امریکا بموں کے ذریعے مذاکرات کر رہا ہے، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جنگ جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔اس جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور توانائی کے بحران میں شدت دیکھی جا رہی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر پڑ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جنگ کے جلد خاتمے کے امکانات کم ہیں اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔