گرین پاکستان انیشیٹو سے بنجر زمینیں آباد ہونے لگیں

گرین پاکستان انیشیٹو سے بنجر زمینیں آباد ہونے لگیں

Jul 20, 2026|ویب ڈیسک

لاہور( کامرس ڈیسک)گرین پاکستان انیشیٹو کے تعاون سے بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے، جدید زرعی طریقوں کے فروغ اور کسانوں کی رہنمائی کے ذریعے زرعی شعبے میں نمایاں پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔فارم کے مالک عاصم اعوان نے بتایا کہ انہیں دو سال قبل مکمل بنجر زمین ملی تھی، جس کا 80 فیصد حصہ اب قابلِ کاشت بنایا جا چکا ہے، جہاں گندم، چنا اور کینولا کی کاشت کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس زمین کی پیداوار ملکی منڈیوں تک پہنچے گی، جس سے درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کی راہ ہموار ہوگی۔عاصم اعوان نے کہا کہ ان کے ساتھ صرف 100 ملازمین نہیں بلکہ 100 خاندان وابستہ ہیں، جبکہ فصل کے موسم میں 700 سے 800 مزدوروں کو روزگار فراہم کیا جاتا ہے، جس سے مقامی سطح پر روزگار اور خوشحالی میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت زمین ملنے کے بعد ادارے کی ٹیمیں مسلسل رہنمائی اور تکنیکی معاونت فراہم کر رہی ہیں۔ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے فصلوں، بیجوں اور جدید زرعی معلومات سے بھی آگاہ رکھا جاتا ہے۔عاصم اعوان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی کامیابی ہے، اور انہیں امید ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے مستقبل میں ملک کی کوئی زمین بنجر نہیں رہے گی۔