یورپ شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں، لاکھوں افراد متاثر، ہزاروں اموات رپورٹ

یورپ شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں، لاکھوں افراد متاثر، ہزاروں اموات رپورٹ

Jul 2, 2026|ویب ڈیسک

 لندن( مانیٹرنگ ڈیسک)یورپ کے مختلف ممالک شدید گرمی کی غیرمعمولی لہر کی زد میں ہیں، جہاں برطانیہ میں 1884 سے ریکارڈ رکھے جانے کے بعد جون کا مہینہ اب تک کا گرم ترین جون قرار دیا گیا ہے، جبکہ اسپین اور فرانس میں شدید گرمی کے باعث ہزاروں اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق اسپین میں شدید گرمی سے 1,028 جبکہ فرانس میں تقریباً ایک ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ حالیہ ہیٹ ویو سے یورپ بھر میں تقریباً 15 کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ہفتے برطانیہ، اسپین، جرمنی، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ میں ایک اور شدید ہیٹ ویو آنے کا امکان ہے، جبکہ پرتگال میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکا میں بھی خطرناک گرمی کی وارننگ جاری ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن میں 4 جولائی 1930 کے بعد گرم ترین دن ریکارڈ کیا جائے گا۔فرانس کے شہر بورڈو سے لے کر ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ تک کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا۔ شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے مختلف یورپی شہروں میں غیرمعمولی اقدامات کیے گئے۔ پیرس میں شہری راتیں پارکوں میں گزارنے لگے، برلن میں پولیس نے لوگوں کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے واٹر کینن استعمال کیے، جبکہ ایمسٹرڈیم میں گھروں کی کھڑکیوں کے باہر سورج کی تپش روکنے کے لیے پردے لگائے گئے۔برطانیہ میں ایئرکنڈیشنڈ ہوٹلوں کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ پیرس کے بعض مضافاتی علاقوں میں مقامی سوئمنگ پولز تک بیرونی افراد کی رسائی محدود کر دی گئی۔ جرمنی میں ایک عوامی جھیل پر ایسے افراد کو بھی واپس بھیج دیا گیا جو جرمن زبان نہیں بولتے تھے۔عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ ہیٹ ویو مستقبل کے موسمی حالات کی ایک جھلک ہے اور آئندہ برسوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ادارے نے 6 جولائی کو یورپ میں گرمی کی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم آمدنی والے افراد پر زیادہ شدید ہوتے ہیں، کیونکہ انہیں مناسب رہائش، طبی سہولیات اور گرمی سے تحفظ کے وسائل کم میسر ہوتے ہیں۔ فرانس میں تقریباً نصف گھروں میں شدید گرمی سے بچاؤ کے مؤثر انتظامات موجود نہیں، جبکہ تعمیرات، زراعت اور دیگر کھلے ماحول میں کام کرنے والے مزدور صحت کے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں۔ماحولیاتی تنظیم فرینڈز آف دی ارتھ کے چیف ایگزیکٹو اسد رحمان کا کہنا ہے کہ شدید گرمی پہلے سے موجود سماجی اور معاشی کمزوریوں کو مزید گہرا کر دیتی ہے، جس کے باعث کمزور طبقے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔