مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی قبر کی بے حرمتی، خاندان کو میت دوسری جگہ منتقل کرنے پر مجبور

2 گھنٹے قبل
مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی قبر کی بے حرمتی، خاندان کو میت دوسری جگہ منتقل کرنے پر مجبور

مقبوضہ مغربی کنارے ( مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے ایک فلسطینی خاندان کو اپنے والد کی قبر دوبارہ کھود کر میت دوسری جگہ منتقل کرنے پر مجبور کیے جانے کے واقعے نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ نے اس عمل کو “انسانیت سوز اور شرمناک” قرار دیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 80 سالہ فلسطینی شہری حسین عسعصہ کو جنین کے قریب گاؤں عسعصہ کے قبرستان میں جمعے کے روز تدفین دی گئی تھی۔ اہل خانہ کے مطابق تدفین سے قبل تمام ضروری قانونی اجازتیں حاصل کی گئی تھیں۔مرحوم کے بیٹے محمد عسعصہ نے بتایا کہ تدفین کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیلی آبادکار قبرستان پہنچے اور دعویٰ کیا کہ یہ زمین ایک اسرائیلی بستی کا حصہ ہے، اس لیے وہاں تدفین کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ خاندان نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے گاؤں کا قدیمی قبرستان ہے۔رپورٹس کے مطابق آبادکاروں نے دھمکی دی کہ اگر قبر خود نہ کھودی گئی تو بلڈوزر کے ذریعے قبر اکھاڑ دی جائے گی۔ اس دوران اسرائیلی فوجی بھی موقع پر موجود تھے اور مبینہ طور پر خاندان پر دباؤ ڈالتے رہے کہ میت کو دوسری جگہ منتقل کیا جائے۔محمد عسعصہ کے مطابق جب وہ دوبارہ قبرستان پہنچے تو قبر پہلے ہی کھودی جا چکی تھی اور لاش نکالی جا چکی تھی، جس کے بعد خاندان کو مجبوراً میت کو دوسرے قبرستان میں دوبارہ دفن کرنا پڑا۔