بیجنگ( مانیٹرنگ ڈیسک)بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی کے اعلان پر چین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے خطے میں تناؤ بڑھانے والا اقدام قرار دیا ہے۔چین کے وزیر دفاع ڈونگ جن نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ چین کے اہم تجارتی اور توانائی معاہدے موجود ہیں جن کا ہر صورت احترام کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور دیگر ممالک سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت سے گریز کریں۔ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہے اور چینی بحری جہاز اس راستے سے معمول کے مطابق گزر رہے ہیں۔دوسری جانب چینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں اس اہم آبی گزرگاہ کو محفوظ اور بلا رکاوٹ رکھنے کو عالمی برادری کے مشترکہ مفاد سے جوڑتے ہوئے کہا کہ توانائی کی فراہمی کے تسلسل کے لیے تعاون جاری رکھا جائے گا۔چین نے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فریقین جنگ بندی کا احترام کریں گے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں گے۔ادھر برطانیہ اور آسٹریلیا نے بھی ممکنہ ناکہ بندی کی مخالفت کی ہے جبکہ ترکی اور جاپان نے تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا نہایت اہم راستہ ہے اور یہاں کسی بھی رکاوٹ کے باعث عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی پر چین کا سخت ردعمل، عالمی تشویش میں اضافہ
2 دن قبل