استاد امانت علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 52 برس بیت گئے

استاد امانت علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 52 برس بیت گئے

Sep 17, 2026|ویب ڈیسک

لاہور( شوبز ڈیسک) پٹیالہ گھرانے کے نامور کلاسیکی گائیک استاد امانت علی خان کو دنیا سے رخصت ہوئے 52 برس گزر گئے، تاہم ان کی دلکش آواز اور لازوال گائیکی آج بھی موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہے۔استاد امانت علی خان 1932ء میں شام چوراسی کے پٹیالہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد انہوں نے لاہور کو اپنا مستقل مسکن بنایا اور ریڈیو پاکستان کے مختلف پروگراموں کے ذریعے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔اپنی منفرد آواز اور اندازِ گائیکی کے باعث انہوں نے مہدی حسن، غلام علی سمیت اپنے دور کے دیگر ممتاز گلوکاروں کے درمیان نمایاں مقام حاصل کیا۔ ’انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو‘، ’موسم بدلا رت گدرائی‘ اور ’ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام بھی آئے‘ جیسی غزلیں اور گیت آج بھی مقبول ہیں۔موسیقی کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔استاد امانت علی خان 17 ستمبر 1974ء کو صرف 42 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے بعد ان کے بیٹے شفقت امانت علی اور رستم فتح علی خان سمیت خاندان کی نئی نسل نے موسیقی کی روایت کو آگے بڑھایا۔کلاسیکی راگ ہو یا غزل، استاد امانت علی خان کی آواز آج بھی شائقین موسیقی کو متاثر کرتی ہے اور ان کا فن موسیقی کی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔