سانحہ پٹن کے 35 برس مکمل، متاثرین کو خراج عقیدت

سانحہ پٹن کے 35 برس مکمل، متاثرین کو خراج عقیدت

Aug 1, 2026|ویب ڈیسک

مظفرآباد( اباسین خبر) مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پٹن میں یکم اگست 1990 کو پیش آنے والے سانحے کو 35 برس مکمل ہو گئے، جس میں متعدد نہتے کشمیری شہری جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔پٹن قصبہ بارہمولہ-سرینگر شاہراہ پر واقع ہے، جہاں مقامی بیانات کے مطابق یکم اگست 1990 کو بھارتی فوج کی فائرنگ سے 12 شہری جاں بحق جبکہ 80 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔عینی شاہدین کے مطابق بازار میں ایک گاڑی کا ٹائر پھٹنے کی آواز کے بعد بھارتی فوجیوں نے فائرنگ شروع کی، جس کے نتیجے میں شہریوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ کئی رہائشی مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔رپورٹس کے مطابق 1990 کے دوران وادی کشمیر میں حق خودارادیت کے مطالبے کے حق میں عوامی تحریک جاری تھی، جس کے دوران بھارتی سکیورٹی فورسز نے سخت قوانین، جن میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (اے ایف ایس پی اے) بھی شامل تھا، کے تحت سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے تھے۔تقریبات میں مقررین نے کہا کہ سانحہ پٹن کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کی علامت بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے ذریعے عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم اس کے باوجود ان کے حوصلے مزید مضبوط ہوئے۔انہوں نے کہا کہ گاؤکدل، ہوال اور ہندواڑہ سمیت دیگر واقعات کی طرح سانحہ پٹن بھی کشمیر کی تاریخ کا ایک اہم باب سمجھا جاتا ہے، جس کے متاثرین کو ہر سال یکم اگست کو یاد کیا جاتا ہے۔