عوامی مینڈیٹ دبانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے: اسد قیصر

عوامی مینڈیٹ دبانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے: اسد قیصر

Sep 29, 2026|ویب ڈیسک

 پشاور( اباسین خبر) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ عوامی مینڈیٹ دبانے اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو غیر مستحکم کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔اسد قیصر نے کہا کہ وفاقی حکومت جتنی توانائی خیبرپختونخوا کے عوام کی منتخب حکومت کو ہٹانے کے لیے آئینی شقیں تلاش کرنے پر صرف کر رہی ہے، اگر اتنی ہی توجہ عمران خان، ان کی اہلیہ، زیرِ حراست پارٹی قیادت اور کارکنوں کو آئینی حقوق دینے پر دیتی تو ملک کی صورتحال مختلف ہوتی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان سمیت دیگر زیرِ حراست رہنماؤں اور کارکنوں کو آئین کے مطابق شفاف اور منصفانہ عدالتی ٹرائل کا موقع دیا جانا چاہیے۔پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اگر 8 فروری کے انتخابات میں عوام کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹ کو تسلیم کیا جاتا تو ملک کو موجودہ سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔اسد قیصر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام سے سابق فاٹا کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو اس کا جائز حصہ ملنا چاہیے جبکہ خیبرپختونخوا کو آئینی نیٹ ہائیڈل پاور منافع اور دیگر واجبات بھی بروقت ادا کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو دبانے اور صوبائی حکومت کو غیر مستحکم کرنے سے مسائل حل ہونے کے بجائے سیاسی بحران مزید گہرا ہوگا۔اسد قیصر کے مطابق بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کی پاسداری کے بغیر ملک میں پائیدار سیاسی استحکام ممکن نہیں۔ سیاسی استحکام کا راستہ عوامی مینڈیٹ کے احترام، آئین کی بالادستی، صوبوں کے آئینی حقوق کی ادائیگی اور قانون کی یکساں حکمرانی سے ہی نکلتا ہے۔