شارجہ سرمایہ کاری فورم 2026ء، عالمی سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کیلئے اہم پلیٹ فارم
شارجہ( کامرس ڈیسک)شارجہ سرمایہ کاری فورم 2026ء کاروباری افراد، سرمایہ کاروں، صنعت کاروں اور نئے کاروبار شروع کرنے والوں کے لیے مواقع کا ایک بڑا مرکز بننے جا رہا ہے۔ فورم میں 60 سے زائد ممالک سے 10 ہزار سے زیادہ شرکا، 80 سے زائد مقررین اور عالمی و علاقائی کاروباری شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔فورم کا نواں ایڈیشن 14 اور 15 اکتوبر کو شارجہ کے الجواہر استقبالیہ و کنونشن مرکز میں منعقد ہوگا۔ اس سال اس کا موضوع بدلتی ہوئی معیشتیں ہے، جس کے تحت عالمی اقتصادی تبدیلیوں، سرمایہ کاری کے نئے رجحانات، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، رسدی نظام، سرمائے کی نقل و حرکت اور پائیدار کاروباری ترقی جیسے موضوعات پر عملی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔یہ فورم شارجہ کے دفتر برائے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، ’’انویسٹ اِن شارجہ‘‘ کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی وزارتِ سرمایہ کاری کے تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے۔کاروباری برادری کے لیے اس فورم کی اہمیت محض تقاریر اور مباحث تک محدود نہیں، بلکہ شرکا کو براہِ راست ملاقاتوں، سرمایہ کاروں سے روابط، کاروباری مذاکرات، نمائشوں، فیصلہ ساز شخصیات سے تبادلے اور ممکنہ شراکت داریوں کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔فورم کے دوران 140 سے زائد سرگرمیوں اور 80 سے زیادہ کاروباری ملاقاتوں کا اہتمام کیا جائے گا، جن کے ذریعے کمپنیوں کو نئے سرمایہ کاروں، اداروں اور کاروباری شعبے کے اہم رہنماؤں سے روابط بڑھانے کا موقع ملے گا۔اس موقع پر جدید صنعت کاری، نقل و حمل، رسد، ثقافت، سیاحت، صحت، فلاح و بہبود، افرادی قوت، جدت، غذائی ٹیکنالوجی اور ماحول دوست ٹیکنالوجی سمیت مختلف اہم شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاری، کاروبار کو وسعت دینے اور نئی شراکت داریاں قائم کرنے کے خواہش مند اداروں کے لیے یہ فورم خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔شارجہ سرمایہ کاری فورم میں متحدہ عرب امارات کے وزیرِ معیشت و سیاحت عبداللہ بن طوق المری سمیت اہم حکومتی اور کاروباری شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ امارات پراپرٹیز کے بانی محمد العبار سمیت 80 سے زائد عالمی ماہرین اور کاروباری رہنما بھی مختلف نشستوں سے خطاب کریں گے اور اپنے تجربات کا تبادلہ کریں گے۔شارجہ سرمایہ کاری فورم 2026ء کو کاروباری اداروں کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی، سرمایہ کاری کے روابط بڑھانے، شراکت داریاں قائم کرنے، ترقیاتی حکمت عملی وضع کرنے اور خطے میں کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔