اباسین خبر

ٹرمپ اور نیتن یاہو کے تعلقات میں کشیدگی بڑھنے کا انکشاف

ٹرمپ اور نیتن یاہو کے تعلقات میں کشیدگی بڑھنے کا انکشاف

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان حالیہ مہینوں میں ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ گفتگو میں نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ لبنان میں عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی فضائی کارروائیوں میں کمی لائیں اور بمباری کے تسلسل پر نظرثانی کریں۔اخبار کے مطابق امریکی صدر نے اپنے قریبی مشیروں کے سامنے بھی اسرائیلی وزیر اعظم کے طرزِ عمل پر ناراضی کا اظہار کیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو ہر مسئلے کا حل فوجی کارروائی اور بمباری میں تلاش کرتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔رپورٹ میں ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیلی قیادت کی جانب سے مسلسل نئی فوجی کارروائیوں کے مطالبات سے نالاں ہیں اور وہ خطے میں کشیدگی کے بجائے سیاسی اور سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایک اور گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ اور اس کے معاشی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر جنگ کے باعث امریکی معیشت متاثر ہوئی تو ان کا موازنہ سابق صدر ہربرٹ ہوور سے کیا جا سکتا ہے، جنہیں 1930 کی دہائی کے معاشی بحران کے دوران شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک موقع پر صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے سخت لہجے میں کہا کہ ان میں فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں، جس سے دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتی ہوئی تلخی کا اندازہ ہوتا ہے۔اگرچہ وائٹ ہاؤس اور اسرائیلی حکومت نے ان گفتگوؤں کی تفصیلات پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم اس رپورٹ نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان بعض اہم علاقائی معاملات خصوصاً ایران، لبنان اور مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر اختلافات میں اضافہ ہو رہا ہے۔