اباسین خبر

میزائل پروگرام مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا:ایران کا مؤقف واضح

میزائل پروگرام مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا:ایران کا مؤقف واضح

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اس کا میزائل پروگرام امریکا کے ساتھ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا اور اس معاملے پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں اور میزائل پروگرام قومی سلامتی کا بنیادی حصہ ہیں، اس لیے انہیں مذاکرات کی میز پر نہیں لایا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ایرانی میزائل کسی سیاسی گفت و شنید کے لیے نہیں بلکہ دفاعی مقاصد کے لیے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی مرحلے، کسی بھی عمل یا کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔اسماعیل بقائی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران حالیہ کشیدگی کے بعد ایک فریم ورک معاہدے پر اتفاق کر چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق مزید مذاکرات کی تیاری جاری ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق ایران طویل عرصے سے اپنے میزائل پروگرام کو ناقابلِ مذاکرات معاملہ قرار دیتا آیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کے میزائل ملک کے دفاعی نظام کا لازمی حصہ ہیں اور ان کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔دوسری جانب امریکا اور بعض مغربی ممالک ماضی میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر تحفظات ظاہر کرتے رہے ہیں اور اسے علاقائی سلامتی کے لیے ایک اہم مسئلہ قرار دیتے آئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اس تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم بعض بنیادی معاملات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ مذاکرات میں جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور علاقائی استحکام جیسے اہم امور زیر بحث آ سکتے ہیں، تاہم ایران نے پہلے ہی اشارہ دے دیا ہے کہ اس کی دفاعی صلاحیتوں اور میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔