وزیراعظم کا پاکستانی ہنرمندوں کیلئے یورپ میں قانونی روزگار کے مواقع بڑھانے پر زور
اسلام آباد( کامرس ڈیسک)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے ساتھ محفوظ، منظم اور قانونی طریقوں سے بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ پاکستانی ہنرمند کارکنوں اور پیشہ ور افراد کے لیے قانونی راستے کھولنے سے یورپی ممالک کی افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔یورپی یونین کے داخلی امور اور ہجرت کے کمشنر میگنس برونر نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ہجرت اور نقل و حرکت کے شعبوں میں تعاون مزید مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ شعبہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان 2019ء کے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کے آٹھ اہم ستونوں میں شامل ہے۔وزیراعظم نے میگنس برونر کو پاکستان کے پہلے دورے پر خوش آمدید کہا اور یورپی یونین کے ساتھ شراکت داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔شہباز شریف نے غیر قانونی ہجرت کی روک تھام اور انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے قانون سازی میں اصلاحات، اداروں کو مضبوط بنانے، مؤثر کارروائی اور عالمی تعاون پر توجہ دی جا رہی ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غیر قانونی ہجرت روکنے کے اقدامات کے ساتھ محفوظ، منظم اور قانونی طور پر بیرون ملک جانے کے قابلِ عمل مواقع بھی فراہم کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی ہنرمندوں اور پیشہ ور افراد کے لیے قانونی روزگار کے راستے کھولنے سے یورپی ممالک کی افرادی قوت کی ضروریات پوری ہوں گی، جبکہ لوگوں کے غیر قانونی طریقے اختیار کرنے اور انسانی اسمگلنگ کے جال میں پھنسنے کے خدشات بھی کم ہوں گے۔ملاقات کے دوران یورپی یونین کے کمشنر میگنس برونر نے پاکستانی حکومت کے اقدامات اور تعاون کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کوششیں قانونی ہجرت کے مواقع بڑھانے اور پاکستان و یورپی یونین کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی افرادی قوت کی نقل و حرکت کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں گی۔