سول ہسپتال کوئٹہ کے کروڑوں کے آڈٹ پیراز پر پی اے سی برہم

سول ہسپتال کوئٹہ کے کروڑوں کے آڈٹ پیراز پر پی اے سی برہم

Sep 11, 2026|ویب ڈیسک

کوئٹہ ( اباسین خبر)بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں سینڈمن پراونشل سول ہسپتال کوئٹہ کے کروڑوں روپے کے آڈٹ پیراز پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی اراکین فضل قادر مندوخیل، محمد خان لہڑی، صفیہ فضل، رحمت صالح بلوچ اور ولی محمد نورزئی سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں سینڈمن پراونشل ہسپتال کوئٹہ کے خصوصی آڈٹ 2022-23 کے پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ مالی سال 2017-18 سے 2021-22 کے دوران ہسپتال کے لیے مختص 10 ارب 44 کروڑ 30 لاکھ روپے میں سے 9 ارب 57 کروڑ 60 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، تاہم محکمہ صحت اور ہسپتال انتظامیہ اخراجات کا مکمل حساب پیش کرنے سے گریزاں ہے۔کمیٹی اراکین نے مطلوبہ ریکارڈ بروقت فراہم نہ کرنے اور پی اے سی کی سابقہ ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے پر محکمہ صحت سے سخت ناراضی کا اظہار کیا۔چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے محکمہ صحت کمیٹی کے سامنے صرف اپنا مؤقف پیش کررہا ہے، جبکہ قواعد و ضوابط پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل ہدایات کے باوجود آڈٹ پیراز پر خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونا اسمبلی اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو اہمیت نہ دینے کے مترادف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی اے سی کو حاصل آئینی اور قانونی اختیارات کا مقصد سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت، جوابدہی اور مالی نظم و ضبط یقینی بنانا ہے، تاہم محکمہ صحت کے طرز عمل سے کمیٹی کو سنجیدگی سے نہ لینے کا تاثر پیدا ہورہا ہے۔اجلاس میں ادویات کی غیر قانونی خریداری سے متعلق 30.016 ملین روپے کے آڈٹ اعتراض کا بھی جائزہ لیا گیا۔ خصوصی آڈٹ کے دوران سینڈمن پراونشل ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے 30.016 ملین روپے مالیت کی ادویات کی خریداری میں اہم بے ضابطگیوں کی نشاندہی سامنے آئی۔