اڑیسہ فسادات، 18 برس بعد بھی مسیحی متاثرین انصاف کے منتظر

اڑیسہ فسادات، 18 برس بعد بھی مسیحی متاثرین انصاف کے منتظر

Aug 25, 2026|ویب ڈیسک

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں اقلیتوں اور نچلی ذات کے ہندوؤں کے خلاف انتہا پسندانہ تشدد کے واقعات پر ایک بار پھر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ 25 اگست 2008 کو بی جے پی کی حکومت والی ریاست اڑیسہ کے ضلع کندھمال میں ہندو انتہا پسندوں کے حملوں کے دوران سینکڑوں مسیحی ہلاک ہوئے۔چار روز تک جاری رہنے والے فسادات میں 600 مسیحی دیہات اور 400 سے زائد گرجا گھر جلا دیے گئے، جبکہ تقریباً 75 ہزار افراد بے گھر ہوئے۔ متعدد مسیحی خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور کئی خاندانوں کو زندہ جلانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں مسیحیوں کو مبینہ طور پر زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا۔ بجرنگ دل، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور وشوا ہندو پریشد کو فسادات میں اہم کردار ادا کرنے والی تنظیموں کے طور پر بیان کیا گیا۔تشدد کے دوران تقریباً 50 ہزار مسیحیوں نے جنگلات میں پناہ لے کر جانیں بچائیں۔ ناگاؤں میں ایک مسیحی راہبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں بھی 40 ملزمان کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کردیا گیا۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، یورپی یونین اور امریکا سمیت متعدد ممالک نے واقعات کی مذمت کی تھی۔ 18 برس گزرنے کے باوجود متاثرین کے مطابق انصاف کا معاملہ تاحال تشنۂ تکمیل ہے۔