افغانستان: بارودی سرنگوں سے انسانی جانوں کو شدید خطرات، بچے سب سے زیادہ متاثر
کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کے باعث شہریوں کی زندگیاں شدید خطرات سے دوچار ہیں، جس سے انسانی المیے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ کاریِ انسانی امور (اوچا) کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ہر ماہ اوسطاً 50 افراد بارودی سرنگوں اور دیگر دھماکہ خیز مواد کے باعث ہلاک یا زخمی ہو جاتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان واقعات میں متاثر ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں کی ہے، جو مجموعی متاثرین کا تقریباً 80 فیصد بنتے ہیں۔ جنوری سے مئی کے دوران 175 افراد کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جن میں 75 فیصد بچے شامل تھے۔اعداد و شمار کے مطابق افغانستان بارودی مواد سے ہونے والی ہلاکتوں کے لحاظ سے عالمی سطح پر تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ تقریباً 30 لاکھ افراد ایسے علاقوں میں رہ رہے ہیں جو دھماکہ خیز مواد سے متاثرہ زمین کے ایک کلومیٹر کے اندر واقع ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ملک میں انسانی تحفظ، نقل مکانی اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔