لندن ( کامرس ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو اڑتالیس گھنٹوں کی سخت مہلت دینے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے توانائی کے عالمی بحران کے خدشات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت میں دو اعشاریہ پینتیس فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد یہ ایک سو چودہ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی معیار کے تیل کی قیمت بھی بڑھ کر ایک سو دس ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی۔صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر منگل تک آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز پر حملوں کے باعث اس اہم سمندری راستے کو مؤثر طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ یہ گزرگاہ خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے جوڑتی ہے اور دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے تیل کی فراہمی کے شدید بحران کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کے ساتھ ساتھ دیگر ایندھن کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔امریکی صدر پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ یہ کشیدگی مزید چند ہفتے جاری رہ سکتی ہے، جبکہ مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ رواں ماہ کے اختتام تک تیل کی سپلائی میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے۔
تیل کی قیمتوں میں خطرناک اضافہ، عالمی بحران کے بادل منڈلانے لگے
3 گھنٹے قبل