اسلام آباد( کامرس ڈیسک)اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) نے تقریباً دو دہائیوں سے تعطل کا شکار سعودی گروپ کے طواریقی اسٹیل مل منصوبے کی بحالی کے لیے اہم پیش رفت کرتے ہوئے گیس فراہمی کی منظوری حاصل کر لی ہے، جو اسٹیل کی پیداوار کے لیے بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں شروع کیا گیا تھا، تاہم رعایتی نرخوں پر گیس کی فراہمی کے تنازع کے باعث طویل عرصے تک مکمل نہ ہو سکا۔ اب موجودہ حکومت نے اسے دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے اسٹیل مل کو گیس فراہمی کی منظوری دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ گیس کی دستیابی اور معاشی ترجیحات کو مدنظر رکھا جائے گا، جبکہ حکومت پاکستان پر گیس کی مسلسل فراہمی کی کوئی لازمی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مستقبل میں 10 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس حاصل کرنے والے بڑے صنعتی صارفین کے تمام کیسز ای سی سی کے سامنے پیش کیے جائیں گے، جبکہ پیٹرولیم ڈویژن کو 2005 کی گیس الاٹمنٹ پالیسی پر نظرثانی کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ایس آئی ایف سی کی ایگزیکٹو کمیٹی نے نیشنل اسٹیل کمپلیکس کے لیے 50 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی دستیابی، کم نرخوں پر فراہمی اور علیحدہ صنعتی ٹیرف کی سفارشات بھی دہرائی ہیں۔بعد ازاں پیٹرولیم ڈویژن نے فروری 2025 میں ای سی سی کو 45 ایم ایم سی ایف ڈی گیس 1900 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے نرخ پر فراہم کرنے کی سمری بھجوائی تھی، تاہم وزارت خزانہ اور وزارت منصوبہ بندی کی عدم حمایت کے باعث معاملہ تعطل کا شکار رہا۔سوئی سدرن گیس کمپنی کے مطابق نیشنل اسٹیل کمپلیکس کو اوگرا کے مقررہ نرخ پر 40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم کمپنی نے اسے قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد ایس آئی ایف سی نے 45 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی کے لیے 10 سالہ معاہدے اور مزید 10 سال توسیع کی گنجائش کے ساتھ خط جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سعودی طواریقی اسٹیل مل منصوبہ بحالی کی جانب گامزن، گیس فراہمی کی منظوری میں اہم پیش رفت
14 گھنٹے قبل