ممبئی( مانیٹرنگ ڈیسک)انڈیا پراسیکیوشن ٹریکر اور ساوتھ ایشیا جسٹس کمپین کی ایک تازہ رپورٹ میں بھارت میں مذہبی بنیادوں پر تشدد اور نفرت انگیز جرائم میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2026 کے ابتدائی چار ماہ کے دوران بھارت کی آٹھ ریاستوں میں مبینہ طور پر ہندو انتہا پسند گروہوں کے حملوں میں 13 مسلمان شہری ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض واقعات میں ہجومی تشدد، پولیس کارروائیوں اور حراستی اموات کے نتیجے میں مزید ہلاکتیں ہوئیں۔مزید کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو بعض علاقوں میں بے دخلی، جبری نقل مکانی اور شہری حقوق کی مبینہ پابندیوں کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ مذہبی سرگرمیوں جیسے نماز یا افطار سے متعلق معاملات پر بھی بعض افراد کو حراست میں لیا گیا۔رپورٹ میں انتخابی فہرستوں سے ووٹرز کے اخراج کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس عمل سے بڑی تعداد میں شہری متاثر ہوئے۔دوسری جانب بھارت کی حکومت یا متعلقہ حکام کی جانب سے ان تمام دعوؤں پر باضابطہ اور تفصیلی ردعمل فوری طور پر سامنے نہیں آیا۔سیاسی سطح پر، اس تناظر میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حوالے سے انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی سطح پر پہلے بھی مختلف ادارے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں، تاہم حکومت ان الزامات کو اکثر مسترد کرتی آئی ہے۔
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافے کی رپورٹ، انسانی حقوق کے اداروں کی تشویش
2 گھنٹے قبل