فلسطینی بلدیاتی انتخابات میں محمود عباس کے حامی امیدواروں کی برتری، غزہ میں برسوں بعد ووٹنگ

6 گھنٹے قبل
فلسطینی بلدیاتی انتخابات میں محمود عباس کے حامی امیدواروں کی برتری، غزہ میں برسوں بعد ووٹنگ

مقبوضہ بیت المقدس( مانیٹرنگ ڈیسک) فلسطینی بلدیاتی انتخابات میں صدر محمود عباس کے حامی امیدواروں نے زیادہ تر نشستیں حاصل کر لی ہیں، جبکہ تقریباً دو دہائیوں بعد پہلی بار غزہ کے ایک شہر میں بھی ووٹنگ کا عمل مکمل کیا گیا۔فلسطینی حکام کے مطابق یہ انتخابات انتہائی حساس حالات اور غیر معمولی صورتحال میں منعقد ہوئے، جہاں غزہ میں دو ہزار چھ کے بعد پہلی مرتبہ انتخابی عمل دیکھا گیا۔ اکتوبر دو ہزار تئیس میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ کسی سطح پر ووٹنگ کرائی گئی۔مرکزی غزہ کے شہر دیر البلح میں ووٹنگ کو علامتی اہمیت دی گئی، جس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ غزہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا حصہ ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق وہاں پندرہ میں سے چھ نشستیں محمود عباس کی جماعت فتح اور فلسطینی اتھارٹی کی حمایت یافتہ فہرست نے حاصل کیں۔ایک مقامی فہرست، جسے حماس سے قریب سمجھا جاتا ہے، صرف دو نشستیں حاصل کر سکی، جبکہ باقی نشستیں دیگر آزاد مقامی گروپوں کے حصے میں آئیں۔مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق غزہ میں ووٹر ٹرن آؤٹ تیئس فیصد رہا جبکہ مغربی کنارے میں یہ شرح چھپن فیصد ریکارڈ کی گئی۔رپورٹس کے مطابق غزہ میں کم ٹرن آؤٹ کی بڑی وجوہات جاری جنگی صورتحال، بڑے پیمانے پر نقل مکانی، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور ووٹر رجسٹریشن کے پرانے ریکارڈ بتائے جا رہے ہیں۔