خطے میں امن کے لیے چین، اقوامِ متحدہ اور دیگر ممالک کے ساتھ رابطے جاری ہیں: تر جما ن دفتر خارجہ

4 گھنٹے قبل
خطے میں امن کے لیے چین، اقوامِ متحدہ اور دیگر ممالک کے ساتھ رابطے جاری ہیں: تر جما ن دفتر خارجہ

اسلام آباد( اباسین خبر) پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی خطرناک ہے اور اس کا مستقل حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے رابطے کیے ہیں اور خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں۔ترجمان کے مطابق پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت چین میں جاری ہے، جس میں دہشتگردی کے خاتمے پر زور دیا جا رہا ہے، اور پاکستانی وفد ابھی چین میں موجود ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ مذاکرات سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا اور افغان طالبان سے دہشتگردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔وزارت خارجہ نے بھارتی فیک نیوز کے حوالے سے بھی خبردار کیا، اور کہا کہ ایران-امریکا کشیدگی میں پاکستان کی سفارت کاری پر ہندوستان سے جھوٹی خبریں جاری کی جا رہی ہیں، جنہیں مسترد کیا جاتا ہے۔چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس میں خطے میں جنگ کے خاتمے، انسانی جانوں اور معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا، اور مسلم اُمہ کے اتحاد کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس دوران امریکہ اور ایران کے ممکنہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو زیر غور رکھا گیا، جسے شریک ممالک نے مکمل حمایت دی۔ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حالیہ دورۂ چین میں پانچ نکاتی امن منصوبہ پیش کیا، جس میں فوری جنگ بندی، تنازع کے پھیلاؤ کی روک تھام، متاثرہ علاقوں تک بلا رکاوٹ انسانی امداد، خطے میں امن مذاکرات اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری شامل ہے۔ منصوبے میں ہرمز کی گزرگاہ میں جہاز رانی کے تحفظ کو بھی خاص اہمیت دی گئی۔پاکستانی سفارت کاری کے مثبت اثرات کے طور پر ایران نے پاکستانی پرچم والے مزید 20 جہازوں کو بحر ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔ اس دوران عالمی برادری نے یروشلم میں اسرائیل کی جانب سے عبادت کی آزادی پر عائد پابندیوں کی مذمت کی، اور خطے میں قانونی حیثیت اور مذہبی آزادی کے تحفظ پر زور دیا گیا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ متحرک رہتے ہوئے سفارتی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، اور اس کوشش کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔