اسلام آباد(پاکستان خبر) باوثوق ذرائع کے مطابق 24 سے 26 مئی کے دوران وزیراعظم کے مجوزہ دورہ چین کے موقع پر اہم اقتصادی تعاون کے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً پانچ ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران سو سے زائد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں، جن میں زیادہ تر معاہدے نجی شعبے سے نجی شعبے (بزنس ٹو بزنس) جبکہ کچھ سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان (گورنمنٹ ٹو بزنس) ہوں گے۔ان معاہدوں کا تعلق مختلف شعبوں سے ہوگا جن میں زراعت، لائیو اسٹاک، پولٹری، ڈیری فارمنگ، پھلوں اور سبزیوں کی پروسیسنگ، حیوانی ویکسین، فشریز، کولڈ چین سسٹم، کھاد، بیج، زرعی ادویات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، فِن ٹیک، ای کامرس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ٹیلی کمیونیکیشن، صنعتی شعبہ، موبائل فونز اور لیپ ٹاپ بیٹریز، الیکٹرک وہیکل پارٹس اور چارجنگ سسٹمز شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اس عمل کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو معاہدوں پر عملدرآمد کا باقاعدہ جائزہ لے گی۔دورے کے دوران وزیراعظم کی چین کی قیادت سے ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں جن میں دو طرفہ تعلقات اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔سرکاری وفد میں مختلف وزارتوں کے وزرا اور اعلیٰ حکام کی شمولیت متوقع ہے، جبکہ نجی شعبے کے نمائندے بھی بزنس ٹو بزنس معاہدوں میں حصہ لیں گے۔ذرائع کے مطابق دورے کے پیش نظر آئندہ مالی سال کے بجٹ شیڈول میں بھی تبدیلی کی جا رہی ہے، اور اقتصادی سروے سمیت دیگر اہم مالی دستاویزات نئی تاریخوں کے مطابق پیش کیے جانے کا امکان ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ دورے کے بعد قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی وزیراعظم کی زیر صدارت منعقد ہونے کا امکان ہے، جس میں آئندہ اقتصادی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔