نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) ایک عالمی تحقیقاتی تنظیم نے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم پر بی جے پی قیادت اور ہندو انتہاپسند تنظیموں کے خلاف عالمی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ’’سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ‘‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رقب حمید نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت میں مذہبی انتہاپسندی پھیلانے والے رہنماؤں اور گروہوں کے خلاف سخت اقدامات کرے۔عالمی جریدے ٹی آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق رقب حمید نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی، اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کو اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف مظالم کا ذمہ دار قرار دیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد جیسی انتہاپسند تنظیموں کے ذریعے اقلیتوں کے خلاف تشدد، نفرت انگیزی اور املاک پر قبضے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔تحقیقاتی تنظیم کے مطابق آسام میں 2021 سے 2026 کے دوران 22 ہزار سے زائد مسلم خاندانوں کے گھر مسمار کیے گئے جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، جس پر عالمی برادری کی فوری توجہ ضروری ہے۔
آسام میں 2021 سے 2026 کے دوران 22 ہزار سے زائد مسلم خاندانوں کے گھر مسمارہوئے: عالمی تنظیم
2 گھنٹے قبل