روس( مانیٹرنگ ڈیسک)روس اور یوکرین کی جنگ کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مہاجرین کو دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے جنگ میں شامل کیا جا رہا ہے۔عرب ذرائع ابلاغ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق تاجکستان سے تعلق رکھنے والے چھبیس سالہ نوجوان حشرزجون سالوہدینوف نے بتایا کہ وہ سینٹ پیٹرزبرگ میں بطور کوریئر کام کر رہے تھے جب انہیں ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ وہ نو ماہ تک حراست میں رہے، تاہم عدالت نے کمزور شواہد کی بنیاد پر کیس کو آگے نہ بڑھایا، لیکن رہائی کے بجائے جیل حکام نے انہیں جنگ میں شمولیت پر مجبور کیا۔ان کے مطابق حکام نے دھمکی دی کہ اگر انہوں نے جنگ میں جانے سے انکار کیا تو انہیں خطرناک قیدیوں کے ساتھ رکھا جائے گا، جبکہ دوسری جانب انہیں دو ملین روبل بونس، دو لاکھ روبل ماہانہ تنخواہ اور سزا سے نجات کی پیشکش بھی کی گئی۔حشرزجون سالوہدینوف کا کہنا تھا کہ ان حالات کے باعث وہ مجبور ہو کر دو ہزار پچیس میں فوج میں شامل ہو گئے، جبکہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات دیگر مہاجرین کے ساتھ بھی پیش آ رہے ہیں۔
مہاجرین کو دھمکیوں کے تحت جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے، تہلکہ خیز انکشاف
4 دن قبل