اسلام آباد ( اباسین خبر) برطانوی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کو جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع منصوبہ موصول ہو گیا ہے، جس پر دونوں ممالک غور کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے اس منصوبے میں دو مراحل تجویز کیے گئے ہیں، پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی جبکہ دوسرے مرحلے میں مستقل معاہدہ شامل ہے۔ منصوبے کے تحت جنگ بندی کے ساتھ ہی اہم سمندری گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جبکہ پاکستان اس عمل میں رابطے کا مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے کو اسلام آباد معاہدہ کا نام دیا جا رہا ہے، جس میں پینتالیس روزہ جنگ بندی بھی زیر غور ہے تاکہ مستقل امن کے لیے مذاکرات کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔قبل ازیں ایک امریکی جریدے نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ مختلف فریقین دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں، جس کے تحت ابتدائی طور پر عارضی جنگ بندی اور بعد ازاں مستقل حل تلاش کیا جائے گا، ضرورت پڑنے پر اس جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔تاہم امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں کسی بڑے معاہدے کے امکانات کم ہیں، تاہم یہ کوششیں کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہیں۔دوسری جانب دیگر رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان، مصر اور ترکیہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم تاحال کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس حوالے سے جاری خبروں کی تصدیق یا تردید سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم مخصوص تجاویز پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔
جنگ بندی کی بڑی پیش رفت، ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ زیر غور
3 گھنٹے قبل