کویت ( مانیٹرنگ ڈیسک)کویت سٹی میں ایک امریکی لڑاکا طیارے کی مبینہ تباہی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے صحافی احمد شہاب کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق احمد شہاب کو حکام نے اس ویڈیو کی بنیاد پر گرفتار کیا، جو انہوں نے تقریباً چھ ہفتے قبل شیئر کی تھی۔ ویڈیو میں ایک امریکی لڑاکا طیارے کے تباہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جس کے بعد حکام نے تحقیقات کا آغاز کیا۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد معاملے کی چھان بین کی گئی، جس کے نتیجے میں صحافی کو حراست میں لیا گیا۔دوسری جانب صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے اس اقدام پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ احمد شہاب پر جھوٹی خبر پھیلانے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے الزامات اکثر مبہم ہوتے ہیں اور انہیں آزاد صحافت کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لہٰذا صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کی مکمل آزادی دی جانی چاہیے۔ماہرین کے مطابق یہ واقعہ خطے میں اظہارِ رائے کی آزادی اور صحافتی حقوق سے متعلق نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سوشل میڈیا پر معلومات کی تیز تر ترسیل ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
کویت میں طیارہ ویڈیو شیئر کرنا مہنگا پڑ گیا، صحافی گرفتار
9 گھنٹے قبل