تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای تاحال منظرعام پر نہیں آئے تاہم ان کا ایک اور تحریری بیان سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے پڑھ کر سنایا گیا ہے، جس میں انہوں نے اہم پالیسی نکات واضح کیے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اپنے بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں لیکن اپنے حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قائد آیت اللہ خامنہ ای اور جنگ میں جاں بحق ہونے والے دیگر افراد کا بدلہ لینے کے لیے پُرعزم ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ایران مزاحمتی محاذ کو ایک متحد قوت سمجھتا ہے جس میں خطے کے اتحادی بھی شامل ہیں، اور اس اتحاد کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کے انتظام کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرنے کا عندیہ بھی دیا، تاہم اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ جنگ میں ہونے والے ہر جانی نقصان کا حساب لیا جائے گا اور زخمیوں کے لیے مکمل معاوضہ حاصل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس تنازع میں ایران نے برتری حاصل کی ہے اور مخالفین کو پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے۔یاد رہے کہ اٹھائیس فروری کو اسرائیلی حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کے جاں بحق ہونے کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا تھا، تاہم وہ تاحال عوام کے سامنے نہیں آئے ہیں۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر کا سخت پیغام، بدلے اور مزاحمت کا اعلان
2 گھنٹے قبل