کوئٹہ ( اباسین خبر) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی کو بھی بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں بہتر حکمرانی کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری ہیں، محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی بھرتیاں مکمل طور پر میرٹ پر کی گئیں جبکہ تین ہزار دو سو بند اسکولوں کو دوبارہ فعال بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعے بیرون ملک موجود پاکستان مخالف عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور غیر مستند تاریخی حوالوں سے ان کی منفی ذہن سازی کی جا رہی ہے، نوجوانوں کو چاہیے کہ مستند تاریخ کا مطالعہ کر کے حقیقت اور فریب میں فرق کریں۔ان کا کہنا تھا کہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں اور انہیں ہر محاذ پر ریاست کا دفاع کرنا چاہیے، جبکہ تشدد پر مبنی اقدامات کا ترقی سے کوئی تعلق نہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل پانچ ریاست سے غیر مشروط وفاداری کا تقاضا کرتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان خود متاثرہ فریق ہے، وہ ہمیشہ ریاست کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں احتجاج کے نام پر شاہراہیں کئی کئی دن بند رہتی تھیں، تاہم اب صورتحال بہتر ہو چکی ہے اور کسی کو بھی عوام کے حقوق سلب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔میر سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ علیحدگی پسند عناصر کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور گمشدہ افراد کے مسئلے کو ریاست کے خلاف پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا گیا، جسے مؤثر قانون سازی کے ذریعے مستقل بنیادوں پر حل کیا جا چکا ہے۔
سرخی: بندوق کے زور پر نظریہ مسلط نہیں ہو سکتا، وزیراعلیٰ بلوچستان کا دوٹوک مؤقف
4 گھنٹے قبل