جمو ں کشمیر( مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی انتظامیہ کی جانب سے مسلم آبادی کے خلاف کارروائیوں پر تنقید میں اضافہ ہو گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق علاقے میں کئی گھروں کو مسمار کر دیا گیا ہے، جبکہ مقامی سطح پر ان اقدامات کو منظم امتیازی سلوک قرار دیا جا رہا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیر جنگلات جاوید رانا نے ان کارروائیوں کو وحشیانہ، امتیازی اور متعصبانہ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔بھارتی جریدے کے مطابق انتظامیہ نے درجنوں مکانات کو جنگلاتی زمین قرار دے کر مسمار کیا، جن میں تقریباً 60 کنال رقبے پر موجود 20 سے 30 گھر شامل تھے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان اقدامات کے باعث متعدد خاندان متاثر ہوئے ہیں اور مقامی سطح پر بے چینی پائی جاتی ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں گھروں کی مسماری، بھارتی انتظامیہ پر امتیازی کارروائیوں کے الزامات
9 گھنٹے قبل