اسلام آباد ( اباسین خبر) وفاقی آئینی عدالت نے گلگت بلتستان سے متعلق مجوزہ قانون سازی کے معاملے پر سماعت کے دوران حکومت کو موجودہ اور مجوزہ قوانین کا مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔سماعت کے دوران جج صاحبان نے ریمارکس دیے کہ قانون سازی کے لیے عدالت سے اجازت طلب کرنا کیوں ضروری سمجھا جا رہا ہے، اور اس معاملے پر گلگت بلتستان کی سیاسی قیادت سے مشاورت بھی کی جانی چاہیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون سازی حکومت کا اختیار ہے، تاہم بعض نکات پر وضاحت درکار ہے۔دوران سماعت سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے، مگر بعض معاملات میں عدالتی فیصلوں کی روشنی میں رہنمائی ضروری ہوتی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مجوزہ قانون میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی پنشن سے متعلق شقیں شامل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔مزید بتایا گیا کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے ارکان کی مدت پانچ سال مقرر کرنے کی تجویز بھی زیر بحث ہے، جس پر عدالت نے قانون سازی کی تفصیلات طلب کر لیں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ سیاسی نوعیت کا بھی ہو سکتا ہے اور اگر پارلیمانی بحث عدالت میں لائی گئی تو اس کے دور رس نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ اس نوعیت کے معاملات میں عجلت مناسب نہیں۔بعد ازاں عدالت نے مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی کہ آئندہ پیشی پر مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔
گلگت بلتستان قانون سازی پر عدالت کا سخت سوال، حکومت سے مکمل ریکارڈ طلب
3 گھنٹے قبل