تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کی اعلیٰ قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ایران کے نائب صدر رضا عارف نے ٹرمپ کی دھمکیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں کو دھمکانے والا خود فرسودہ سوچ کا حامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے دباؤ کے باوجود ترقی اور تعمیر کا راستہ اختیار کیا ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں ناقابل قبول ہیں۔ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ جنگی جرائم کے ذریعے کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا اور ایسے اقدامات پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے اور اس کا حل صرف باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر سطح پر تیار ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق امریکی بیانات جنگی جرائم پر اکسانے کے مترادف ہیں۔سابق وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی ٹرمپ کے بیان کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی حملے کا سخت جواب دے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حالیہ کشیدگی کا آغاز ایسے اقدامات سے ہوا جنہوں نے معصوم جانوں کو نشانہ بنایا۔ادھر امریکی سیاست کے بعض حلقوں کی جانب سے بھی ٹرمپ کے سخت بیانات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر اس معاملے کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایران کا سخت ردعمل، خطے میں کشیدگی بڑھنے لگی
3 گھنٹے قبل