اسلام آباد( کامرس ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو رواں مالی سال کے جولائی سے اپریل کے دس ماہ کے دوران تقریباً 700 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔باخبر ذرائع کے مطابق اپریل کے لیے 1029 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کے مقابلے میں اب تک 810 ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں، جبکہ آج کی کلیکشن شامل ہونے کے بعد یہ رقم 900 ارب روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔جولائی سے اپریل کے دوران مجموعی ٹیکس ہدف 10910 ارب روپے مقرر تھا، تاہم اب تک تقریباً 10100 ارب روپے جمع ہوئے ہیں اور تازہ تخمینے کے مطابق مجموعی آمدن 10200 ارب روپے کے قریب رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 500 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز جاری کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 60 ارب روپے زیادہ ہیں، جس سے مجموعی ریونیو پر مزید دباؤ پڑا ہے۔دوسری جانب وفاقی شرعی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت عائد سپر ٹیکس کو آئینی قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پارلیمنٹ کو ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے، تاہم مستثنیٰ آمدن پر یہ ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔ایف بی آر کے مطابق رواں مالی سال سپر ٹیکس کی مد میں 290 ارب روپے جمع کیے جا چکے ہیں، جبکہ یہ رقم جون 2026 تک بڑھ کر 315 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ذرائع کے مطابق مسلسل نو ماہ سے ریونیو شارٹ فال برقرار ہے اور ٹیکس ہدف پورا کرنے کے لیے سپر ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس پر انحصار کیا جا رہا ہے، تاہم مجموعی ہدف حاصل نہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایف بی آر کو 700 ارب روپے تک ریونیو شارٹ فال کا خدشہ، ٹیکس ہدف پورا نہ ہونے کا امکان
4 گھنٹے قبل