کرائسٹ چرچ ( مانیٹرنگ ڈیسک)نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں 51 مسلمانوں کو شہید کرنے والے سفید فام انتہا پسند برینٹن ٹیرنٹ کی جانب سے اعترافِ جرم واپس لینے کی کوشش اپیل کورٹ نے مسترد کر دی۔تین ججوں پر مشتمل بینچ نے قرار دیا کہ ملزم کا یہ مؤقف قابلِ قبول نہیں کہ جیل کی صورتحال کے باعث اسے دہشت گردی، قتل اور اقدامِ قتل کے الزامات میں غیر ارادی طور پر اعترافِ جرم کرنا پڑا۔35 سالہ آسٹریلوی شہری نے مارچ 2019 میں جمعہ کی نماز کے دوران نیم خودکار ہتھیاروں سے دو مساجد پر حملہ کیا تھا، جس میں 51 نمازی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مارچ 2020 میں اس کے اعترافِ جرم سے متاثرہ خاندانوں کو کسی حد تک اطمینان حاصل ہوا تھا، جبکہ اس کی تاخیر سے دائر اپیل قانونی طور پر بھی قابلِ سماعت نہیں تھی۔ججوں نے ذہنی بیماری سے متعلق اس کے دعوے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ اس نے سوچ سمجھ کر اور مکمل شعور کے ساتھ اعترافِ جرم کیا تھا۔عدالت نے مزید کہا کہ ملزم کی جانب سے بعد ازاں اپیل واپس لینے کی کوشش بھی عوامی مفاد کے پیش نظر قبول نہیں کی گئی اور کیس کو حتمی طور پر نمٹا دیا گیا ہے۔
کرائسٹ چرچ حملہ آور کی اعترافِ جرم واپس لینے کی اپیل مسترد
4 گھنٹے قبل